فیمینزم: بغاوت یا خود آگاہی؟

Medium | 25.01.2026 00:20

فیمینزم: بغاوت یا خود آگاہی؟

فیمینزم آج کے دور کا ایک جانا مانا لفظ ہے۔ لوگ اسے بار بار استعمال تو کرتے ہیں، مگر بہت کم لوگ اس کی اصل روح اور مفہوم سے واقف ہیں۔ فیمینزم کا نام سنتے ہی اکثر ہمارے ذہن میں سڑکوں پر آزادی کے نعرے لگاتی ہوئی خواتین کا تصور ابھرتا ہے—ایسی عورتیں جنہیں باغی، ضدی یا معاشرتی اقدار سے بغاوت کرنے والی قرار دے دیا جاتا ہے۔ گویا وہ عورتیں جو خاموشی اور برداشت کو پسِ پشت ڈال کر اپنے حق کے لیے بولنا جانتی ہوں، وہی ہمارے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔

فیمینزم اصل میں کیا ہے؟

ہم عورتوں کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے اور عورت اس میں ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مرد کو اللہ نے فوقیت دی ہے، وہ گھر کا سربراہ ہے، حاکم ہے۔ لیکن ان باتوں کے ساتھ ساتھ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے عورت کو بھی مکمل حقوق عطا کیے ہیں؟ اگر مرد و عورت ایک جیسے نہیں ہیں تو یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت نظر انداز کیے جانے کے لیے پیدا نہیں کی گئی۔

اسلام نے معاشرے کو ایک متوازن اور خوبصورت انداز میں ترتیب دیا ہے۔ اگر اسلام مرد کی تعلیم اور ذمہ داریوں پر زور دیتا ہے تو عورت کو بھی علم حاصل کرنے کا پورا حق دیتا ہے۔ حضرت عائشہؓ جیسی عظیم خاتون بڑے بڑے صحابہ کرام کی معلمہ تھیں۔ کاروبار ہو یا سماجی خدمات، حضرت خدیجہؓ اور حضرت اُمِّ عمارہؓ جیسی باوقار خواتین اسلام کی تاریخ میں نمایاں کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔

اسلام عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکانے کا حکم دیتا ہے، عورت کے ساتھ نرمی اور عزت سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔ عورت کے ذاتی فیصلوں، ذاتی زندگی اور خودمختاری کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ عورت پر ہاتھ اٹھانے کا تصور بھی اسلامی تعلیمات میں ناقابلِ قبول ہے۔

عورت کی خاموشی کو عبادت کیوں سمجھا گیا؟

وقت کی ایک خاص بات ہے کہ وہ چاہے جیسا بھی ہو، گزر جاتا ہے۔ وقت بدل تو گیا، مگر صنفِ نازک کے لیے سوچ آج بھی اسی دہلیز پر کھڑی ہے جہاں صدیوں پہلے تھی۔ ہم بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کے نعرے تو لگاتے ہیں، مگر دل ہی دل میں یہ خوف بھی رکھتے ہیں کہ اگر بیٹی زیادہ پڑھ گئی تو ہاتھ سے نکل جائے گی۔ ہم بیٹی کو بچانا تو چاہتے ہیں، مگر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اگر وہ گھر سے باہر نکلی تو محفوظ بھی رہ سکتی ہے۔

ہم ہمیشہ عورت کے ساتھ ایک مرد محافظ جوڑ دیتے ہیں—باپ، بھائی یا شوہر۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہی مرد دوسروں کی بہن بیٹی کے معاملے میں محافظ کے بجائے درندہ کیوں بن جاتا ہے؟ اور جب ایک عورت اپنی پوری دنیا چھوڑ کر کسی مرد کے نکاح میں آتی ہے تو کچھ وقت بعد وہی مرد اسے نظر انداز کیوں کرنے لگتا ہے؟ وقت نہ دینا، بے رخی، دھوکہ، حتیٰ کہ تشدد—اور پھر معاشرہ اسی عورت کو یہی مشورہ دیتا ہے کہ برداشت کرو، سب یہی کرتے ہیں۔

برداشت آخر صرف عورت ہی کیوں کرے؟

صدیوں کی خاموشی کے بعد جب عورتیں اپنے حق اور ظلم کے خلاف بولنے کے قابل ہوئیں تو ہمیں وہ باغی نظر آنے لگیں۔ مگر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب خاموشی عورت کی پہچان سمجھی جاتی تھی؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عورتوں کو کبھی یہ سکھایا ہی نہیں کہ وہ بھی اس معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں، ان کی رائے، ان کی ذات بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم ان کی خاموشی کے عادی ہو گئے تھے، اور اب جب انہوں نے بولنا شروع کیا تو ہمیں وہ ناگوار گزرنے لگا۔

عورت کو بھی اتنا ہی تعلیم اور خودمختاری کا حق حاصل ہے جتنا اس معاشرے کے مرد کو۔ مگر عورت کی آزادی اور خودمختاری مرد کی انا اور غیرت کو کیوں چوٹ پہنچاتی ہے؟ عورت کی عزتِ نفس کو پامال کرنے، اسے اپنی ملکیت سمجھنے یا اس پر ہاتھ اٹھانے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔

آزادی، ذمہ داری اور توازن

یہ حقیقت ہے کہ عورت خودمختار ہے، مگر وہ لاپروا یا بے لگام نہیں۔ اسلام نے اگر مرد کو قوام بنایا ہے تو اسے محافظ اور ذمہ دار بھی ٹھہرایا ہے۔ اسی طرح عورت کو آزادی دی گئی ہے، مگر اخلاقیات اور وقار کے دائرے میں۔ آزادی کا مطلب بے راہ روی نہیں، بلکہ شعور، تحفظ اور خود آگاہی ہے۔

خلاصۂ کلام

یہ معاشرہ مرد اور عورت دونوں سے مل کر بنتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ اگر دونوں ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی میں لگ جائیں تو سماجی نظام بکھر جاتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں؟ عورت کی آزادی اور خودمختاری اس کے کردار کو مضبوط بناتی ہے، اور ایک مضبوط، باشعور اور حوصلہ مند نسل کی بنیاد رکھتی ہے۔

عورت کو معاشرے کی فضول رسم و رواج اور لوگوں کی باتوں میں قید کرنے کے بجائے اسے اپنی ذات میں آزاد رہنے دیا جائے۔ اپنی زندگی، اپنی مرضی سے، عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے—کیونکہ یہی اصل فیمینزم ہے: بغاوت نہیں، بلکہ خود آگاہی۔